7 جون کو گلگت بلتستان کے عوام نے ووٹ ڈال دیے، 8 جون کو نتائج آنا شروع ہوئے، اور حسبِ روایت سوالات بھی نتائج سے زیادہ تیزی سے سامنے آنے لگے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر جماعت خود کو عوام کی اصل آواز قرار دیتی ہے، لیکن جیسے ہی نتائج آنے لگتے ہیں، سب سے پہلے عوام پر نہیں بلکہ فارم 45، پولنگ اسٹیشنوں اور انتخابی عمل پر گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آ رہی ہے، جبکہ آزاد امیدوار ایک بار پھر "کنگ میکر" کے کردار میں دکھائی دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہر الیکشن میں آزاد امیدوار ہی حکومت سازی کا رخ متعین کرتے ہیں تو سیاسی جماعتیں نظریات پر چلتی ہیں یا بعد از الیکشن ریاضی پر؟ 24 نشستوں کے لیے سیکڑوں امیدوار میدان میں تھے۔ جلسوں میں عوام کو یقین دلایا گیا کہ یہ الیکشن علاقے کی تقدیر بدل دے گا۔ مگر گلگت بلتستان کے عام شہری کے ذہن میں ایک سادہ سا سوال اب بھی زندہ ہے: گزشتہ الیکشنوں میں جو تقدیر بدلنے کے وعدے کیے گئے تھے، وہ کہاں پہنچے؟ مزید دلچسپ منظر یہ ہے کہ جن جماعتوں نے انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے پر شدید تنقید کی، نتائج کے بعد ا...
Latest Stories